وہ ایک باتونی بچی تھی ۔ ہروقت بےچین رہتی ،سوال پوچھتی ،چیزوں کے اندرجھانکتی۔اپنے پیاروں کی آنکھ کا تارا۔اس لیے خوشی خوشی سب اپنے طور پراُسے مطمئن کرنا چاہتے۔ وہ پھولوں سے تتلیوں سے باتیں کرتی تورنگ برنگے پتھروں سے بھی جی لگاتی ،سنگِ مرمر کےٹکڑے کہیں پڑے ملتے تو جھولی میں بھر لیتی اورکہتی گھر بناؤں گی تو اُس میں لگاؤں گی ۔ رات کے وقت پودوں کی اُداسی کو اپنے اندر محسوس کرتی ۔ کوئی پھول کی خوشبو کا تمنائی ہوتا ہے وہ پتوں کی سرد تاریکی پر ٹھٹک جاتی ،رُک جاتی ۔ دن کو ہوا کے نرم جھونکوں کی طرح اُڑتی پھرتی ۔ کبھی کسی کی تسکین کرتی کبھی کوئی اس کے قریب رہنا چاہتا ۔ وہ اپنے کام اپنے مقصد سے کبھی غافل نہیں رہی ۔ نصابی کتابیں اُس کے لیے سب سے اہم تھیں ۔ بڑی ہوتی گئی تو گھر سے اسکول کے سفر میں اُستاد سے پرنسپل تک سب اُس کے گرویدہ تھے۔ وہ خوب بولتی ،چھٹیوں کے بعد اسکول آ کر اپنے قصے سب کو سناتی ۔اورتواوراپنے شفیق پرنسپل کے دفتر جا کر ان کے پوچھنے پر بےدھڑک گزشتہ رات سینما میں دیکھی گئی فلم پرتبصرہ بھی کرتی ۔ اپنے غیر نصابی کام ذمہ داری سےکرنے کے ساتھ جماعت میں اچھے نمبرلینا تو سب سے پہلا فرض تھا۔
ذرا بڑی ہوئی تو لفظ سےمحبت ہو گئی ۔ وہ لفظ جمع کرتی ،لفظ پڑھتی ۔الف لیلٰی کی کہانیوں سےبات شروع ہوئی تو گویا عمروعیار کی زنبیل کی طرح ایک پٹارہ ہی کھل گیا ہو کہ پھر اُس نے پیچھے پلٹ کرنہ دیکھا۔ لوگوں سے باتیں کر کے دُنیا کی نئی جہت دریافت کرنے کی خواہش اُسے کتابوں کی طرف کھینچ لائی کہ کتابیں تو خاموش ساتھی ہوتی ہیں اور درست جگہ پہنچاتی ہیں۔ سفر کچھ اس تیزی سے بڑھ رہا تھا کہ دس گیارہ برس کی عمرمیں وہ "حکایت ڈائجسٹ" میں سلطان صلاح الدین ایوبی کو بڑے ذوق وشوق سے پڑھتی اور"داستان ایمان فروشوں کی" اُس کے دل پراثرکرتی تھی ۔ ساتھ ساتھ وہ پریوں کی کہانیاں بھی پڑھتی اور چوری چوری خواتین کے رسالے بھی ۔ ایک شوق جاسوسی اورسسپنس والی کہانیاں پڑھنے کا بھی تھا ۔ شرلاک ہومز اور ڈاکٹر واٹسن کے کرداراورپھر جناب اشتیاق احمد کی تازہ آنے والی کتابیں توگویا دُنیا کی سب سے بڑی نعمت تھیں جن کا بڑی بے چینی سے انتظار کیا جاتا اوراپنی عیدی اور پاکٹ منی اسی لیے گن گن کرسنبھالی جاتی ۔ وہ محلے کی لائبریری سے کتابیں لاتی اور اگلے روزواپس بھی کردیتی ۔ کوئی اس کی راہ میں حائل نہیں تھا کہ وہ اسکول کی کتابیں بھی اسی ذوق وشوق سے پڑھتی تھی اورقرآن پاک بھی بہت کم عمری میں مکمل پڑھ لیا تھا۔
اُس کی تلاش"لفظ" میں تھی ۔ وقت دھیرے دھیرے سرک رہا تھا لیکن وہ بہت تیزی سے کبھی کسی سوچ کی ڈال پر اور کبھی کہیں ۔ وہ میلوں میں جاتی ،جھولے جھولتی ، فلمیں دیکھتی اورڈرامے بھی اورہر وقت سیکھنے اورجاننے کی جستجو میں رہتی ۔ ہائی اسکول میں اُساتذہ کی خاص توجہ کا مرکز بنی تو اُن کی محنت سے چمک آئی یوں کہ بورڈ میں پوزیشن لی اوروظیفہ بھی ملا۔
وہ باتونی بچی جوں جوں بڑی ہوتی گئی خاموشی اُس کی روح میں گھر کرنے لگی۔ لفظ اورانسان کے درمیان گہرا تضاد اُس کی سمجھ سے باہر تھا۔ وہ انسان کی سچائی لفظ سےماپتی تھی لیکن حقیقت کی دُنیا میں ایسا بالکل بھی نہ تھا۔ اُسے معلوم ہوا کہ علم اورعمل میں کئی جگہ وسیع خلیج ہے۔ کہیں علم ہے توعمل ندارد اورکہیں انسان چاہتے ہوئے بھی علم کے مطابق عمل نہیں کرسکتا ۔اورکبھی عمل محض کاغذی پھولوں کی مانند دکھتا ہے۔
No comments:
Post a Comment