Wednesday, May 27, 2015

فریال نے اپنے بچپن کو ایسے یاد کیا

بات نکلے گی تو دور تلک جاۓ گی۔پر کیسے جاۓ کہ خیالوں کا تانا بانا اس ٹاپینگ کی وجہ سے بکھرے جا رھا ھے۔تو بات تھی یہ اس زمانے کی جب ابھی میں چھوٹی سی تھی۔ابو کی انگلی اور بہن بھائیوں کی انگلی پکڑ کر جنگلوں اور کھیتوں میں نکل جاتے تھے۔ائیرگن ھوتی اور فاختائین اور کبوتر اور مینائیں ھوتین۔میلوں چلتے، چلتے جاتے۔شکار بھی ھوتا اور تفریح بھی۔وہ زمانے اور تھےدیہاتی لوگ اپنے بیچ شہری لوگ دیکھ کر دیدہ دل فرش راہ کر دیتے تھے۔سوۓ بیر کے گھنے درختوں کے نیچے چارپائیاں بچھ جاتیں اور لسی اور کھانا پیش کر دیا جاتا۔اسی طرح گھومتے وقت اور آگے بڑھا اور ھم ذرا اور بڑے ھو گۓ۔ابھ شکار میں مچھلی کا شکار بھی شامل ھو گیا۔سٹیمنا بھی بن رھا تھا اور مچھلی کا شکار صبر سے کام لینا بھی سکھا رھا تھا۔وقت کچھ اور گذرا اب اس میں ھرن خرگوش اور تیتیر کا شکار بھی شامل ھو گیا۔آوارہ گردی کی داغ بیل ڈالی جا چکی تھی۔ابھی پانچویں جماعت میں تھی کے ابو کے کتابوں کے خزانے ھاتھ لگ گے۔ابن صفی کی عمران سیریز کا پورا کلیکشن پڑھ ڈالا۔کتابوں سے دوستی اس زمانے سے شروع ھوی۔اس دوران شکار پکنک پاڑٹیز بھی جاری تھیں۔یعنی آوارا گرد بنانے کا سلسلہ بچپن سے جاری تھا ھر وہ تربییت دی کہ جو گھر مین نچلا نہ بیٹھنے کا عادی بنا ڈالے۔
فریال

No comments:

Post a Comment