Monday, May 25, 2015

ہم کل اور آج: نامعلوم

کبھی پہلی بار اسکول جانے سے ڈر لگا تھا 
آج اکیلے ھی دنیا گھوم لیتے ھیں 
پہلے فرسٹ آنے کے لیے پڑھتے تھے 
آج کمانے کے لیے پڑھتے ھیں 
کبھی چھوٹی سی چوٹ لگنے پر روتے تھے
آج دل ٹوٹ جانے پر بھی سنبھل جاتے ھیں 
کبھی ھم دوستوں کے ساتھ رہتے تھے 
آج دوست ھماری یادوں میں رہتے ھیں 
پہلے لڑنا مرنا روز کا کام تھا 
آج ایک بار لڑتے ھیں تو رشتے کھو دیتے ھیں 
سچ میں زندگی نے بہت کچھ سکھا دیا ناز 
جانے کب ھم کو وقت نے اتنا بڑا کر دیا 
نامعلوم

No comments:

Post a Comment