ایک سچی ٹرکش لوک کہانی
ایک دفعہ سلیمان دی میگنیفیسنٹ نے ترکی کے شہر برسہ میں ایک مسجد بنانے کا سوچا اور اسے ایک عالیشان مسجد کا روپ دینے کے لیے مختلف ملکوں سے ماہر تعمیرات بلوائے گے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور مسجد بننا شروع ھو گی ۔۔۔جب وہ اختتامی مرحلے پر تھی تو ایک مسئلہ کھڑا ھو گیا اس علاقے کے ایک حصہ میں ایک بڑھیا کی کٹیا تھی جو کسی بھی سونے چاندی کے عوض اپنا گھر چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھی ۔۔۔۔۔بادشاہ اس سے ملا کہ وہ راضی ھو جاے لیکن وہ نہ مانی اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ اگر تم نے زبردستی میرا گھر لیا تو میں اس اوپر والے شنشہاہ سے تمہاری شکایت کروں گی اور تمہارا وہاں کا گھر اپنے نام کرا لوں گی ۔۔۔بادشاہ انصاف پسند اور خدا ترس انسان تھا اس نے کہا ۔۔کہ اس کونے کو چھوڑ دو ۔۔اور مسجد کمپلیٹ کر لو ۔۔۔معماروں نے کہا اس طرح مسجد بدصورت ھو جاے گی ۔۔۔اس نے کہا کہ مسجد کا ایک کونا بدصورت رہ جاے لیکن میں نہیں چاہتا کہ میرا جنت کا گھر اللہ مجھ سے چھین لیں اور اس طرح وہ مسجد اس کونے کو چھوڑ کر بنا دی گئی ۔۔۔۔۔۔
ھم نے اپنے بچپن میں اسے بادشاہ کا محل کے نام سے یہ کہانی سنی تھی لیکن اپنے ترکی کے ٹرپ کو دوران میں برسہ گی تو وہاں اس مسجد کو پایا اور وہاں اس بڑھیا کی کٹیا آج بھی موجود ھے ۔۔۔لوگ یہ واقعہ سلیمان دی میگنیفسنٹ کے نام سے منسوب کرتے ھیں۔
بشکری: فریال عثمان خان
No comments:
Post a Comment