کہتے ہیں ۔۔
اگر بچے کہیں " میرے والدین بہترین ہیں ، ہمیں کچھ نہیں کہتے"
تو اسکا مطلب والدین بالکل ہی اپنے فرائض سے نابلد ہیں ۔۔۔۔
(ایک گہری سوچ والدین اور بچوں کے لیے )
اگر بچے کہیں " میرے والدین بہترین ہیں ، ہمیں کچھ نہیں کہتے"
تو اسکا مطلب والدین بالکل ہی اپنے فرائض سے نابلد ہیں ۔۔۔۔
(ایک گہری سوچ والدین اور بچوں کے لیے )
مجھے ایسے میں اپنی امی
کی سنائ ایک کہانی یاد آرہی ہے جو میرے بچپن کی یادوں میں سے ایک ہے۔۔۔۔
ایک بچہ جس کے والد کا انتقال ہوچکا تھا وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتا تھا ۔۔۔ بہت اچھا اور نیک تھا جو اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتا تھا اور بہت خیال بھی رکھتا ۔۔۔ بس ایک بری عادت تھی اُسمیں وہ تھی "چوری" ۔۔ کسی کے گھر گیا یا دکان گیا، بس چپکے سے کچھ اُٹھا لینا ۔۔۔۔ اُسکی امی اگرچہ کافی پریشان رہتی تھیں مگر اپنے اکلوتے بیٹے ہونے کی وجہ سے اور اِس خیال سے کہ وہ والد کے بنا ہے اور اُن کے پاس اتنا نہیں جو اپنے بیٹے کی ساری خواہشات پوری کر سکیں ۔۔۔
چونکہ ماں نے کبھی روکا اور نہ ٹوکا بلکہ اپنی ایک آنکھ بند سی کرلی ۔۔۔
نتیجہ یہ ہوا کہ اُسے ہمت بڑھتی گئ اور کچھ اُٹھانا چوری بن گیا اور چوری ڈکیتی میں تبدیل ہوگئ ۔۔۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوا عادتیں پختہ ہوتی گئیں اور ماں کو پتہ ہی نہیں چل سکا ۔۔۔
اور ایک دن ایک ڈکیتی سے بچنے کے لیے اُسنے گولی بھی چلا دی اور پکڑا گیا ۔۔ پھانسی کی سزا ہوگئ ۔۔۔
جب آخری خواہش پوچی گئ تو اُسنے کہا وہ اپنی ماں کے کان میں کچھ کہنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ ماں کو جیل لایا گیا۔۔ اور بوڑھی ماں رو پڑی بیٹے کو جیل میں دیکھ کر ۔۔۔ اب بیٹے نے کان میں کچھ کہنے کا وقت آیا تو، جنگلے کے ایک جانب ماں اور دوسری جانب بیٹا ۔۔ اُسنے اپنی ماں کے کان کہ ہاس اپنا منہ لایا اور کان چبا ڈالے ۔۔۔ ماں چیختی رہی اور سارے مل کر جب تک ماں کو جنگلے کے اس پار چھڑایا وہ لہولہان ہوگئ ۔۔۔
لوگوں کے استفسار پہ اُسنے کہا ۔۔ میں اپنی ماں کی وجہ سے اس حال پہ پہنچا ہوں۔۔ اگر بچپن میں ہی میری چھوٹی چھوٹی باتوں پہ سرنزش کرتی تو شاید میں ایسا برا انسان نہیں بنتا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاصلِ کہانی ۔۔۔
ایک بچہ جس کے والد کا انتقال ہوچکا تھا وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتا تھا ۔۔۔ بہت اچھا اور نیک تھا جو اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتا تھا اور بہت خیال بھی رکھتا ۔۔۔ بس ایک بری عادت تھی اُسمیں وہ تھی "چوری" ۔۔ کسی کے گھر گیا یا دکان گیا، بس چپکے سے کچھ اُٹھا لینا ۔۔۔۔ اُسکی امی اگرچہ کافی پریشان رہتی تھیں مگر اپنے اکلوتے بیٹے ہونے کی وجہ سے اور اِس خیال سے کہ وہ والد کے بنا ہے اور اُن کے پاس اتنا نہیں جو اپنے بیٹے کی ساری خواہشات پوری کر سکیں ۔۔۔
چونکہ ماں نے کبھی روکا اور نہ ٹوکا بلکہ اپنی ایک آنکھ بند سی کرلی ۔۔۔
نتیجہ یہ ہوا کہ اُسے ہمت بڑھتی گئ اور کچھ اُٹھانا چوری بن گیا اور چوری ڈکیتی میں تبدیل ہوگئ ۔۔۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوا عادتیں پختہ ہوتی گئیں اور ماں کو پتہ ہی نہیں چل سکا ۔۔۔
اور ایک دن ایک ڈکیتی سے بچنے کے لیے اُسنے گولی بھی چلا دی اور پکڑا گیا ۔۔ پھانسی کی سزا ہوگئ ۔۔۔
جب آخری خواہش پوچی گئ تو اُسنے کہا وہ اپنی ماں کے کان میں کچھ کہنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ ماں کو جیل لایا گیا۔۔ اور بوڑھی ماں رو پڑی بیٹے کو جیل میں دیکھ کر ۔۔۔ اب بیٹے نے کان میں کچھ کہنے کا وقت آیا تو، جنگلے کے ایک جانب ماں اور دوسری جانب بیٹا ۔۔ اُسنے اپنی ماں کے کان کہ ہاس اپنا منہ لایا اور کان چبا ڈالے ۔۔۔ ماں چیختی رہی اور سارے مل کر جب تک ماں کو جنگلے کے اس پار چھڑایا وہ لہولہان ہوگئ ۔۔۔
لوگوں کے استفسار پہ اُسنے کہا ۔۔ میں اپنی ماں کی وجہ سے اس حال پہ پہنچا ہوں۔۔ اگر بچپن میں ہی میری چھوٹی چھوٹی باتوں پہ سرنزش کرتی تو شاید میں ایسا برا انسان نہیں بنتا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاصلِ کہانی ۔۔۔
کبھی بھی ہم اپنے بچوں
کو لاڈ پیار میں بگاڑ دیتے ہیں
اور بچے یہ نہیں سمجھتے کہ اُنکی ماں اگر روک رہی ہے تو بھلائ کے لیے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مستقبل ہمارے ہاتھ میں ۔۔۔۔
بشکریہ : غزالہ پرویز
اور بچے یہ نہیں سمجھتے کہ اُنکی ماں اگر روک رہی ہے تو بھلائ کے لیے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مستقبل ہمارے ہاتھ میں ۔۔۔۔
بشکریہ : غزالہ پرویز
No comments:
Post a Comment