جب میں چھوٹی تھی ...
میں چھٹی یا ساتویں
جماعت میں تھی اور یہ وہ عمر تھی کہ بڑوں کی محفل اچھی لگنے لگی تھی ..امّی بچوں
کی تربیت کے معاملے میں سخت تھیں ...امی مجھے بڑوں کی محفل میں بیٹھا دیکھتیں تو
ٹوک دیتیں ...اور پھر ایک دن
ایک دن امی کی کوئی سہیلی آئیں ... وہ بہت اچھا تیار ہوئی ہوئیں تھیں اور میں ان کا میک اپ اور جیولری شوق سے دیکھنے میں محو تھی اتنے میں امی پہ نظر پڑی تو امی نے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ باہر جاؤ ..میں نے سرا سر اگنور کیا ... تھوڑی دیر بعد امی نے کہا دیکھو چائے بن گئی ہے تو شریفاں سے کہو لے آئے ..اب میں آنٹی شریفاں کو کہہ کر واپس ڈرائینگ روم میں پھر اس آنٹی کے ساتھ جا بیٹھی .. ایک بار پھر امی کی آنکھوں کا اشارہ موصول ہوا جسے میں نے ایک بار پھر اگنور کیا .. اور پھر چائے ی کے تھوڑی دیر بعد آنٹی چلی گئیں ... امی ان کو گیٹ تک چھوڑنے کے بعد واپس آئیں تو امی نے مجھے آواز دی اور پھر امی کے تھپڑ ..ایک کے بعد ایک ..ٹھاہ .. ٹھاہ .. امی ساتھ ساتھ بول رہی تھیں اب بیٹھو گی بڑوں میں
ایک دن امی کی کوئی سہیلی آئیں ... وہ بہت اچھا تیار ہوئی ہوئیں تھیں اور میں ان کا میک اپ اور جیولری شوق سے دیکھنے میں محو تھی اتنے میں امی پہ نظر پڑی تو امی نے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ باہر جاؤ ..میں نے سرا سر اگنور کیا ... تھوڑی دیر بعد امی نے کہا دیکھو چائے بن گئی ہے تو شریفاں سے کہو لے آئے ..اب میں آنٹی شریفاں کو کہہ کر واپس ڈرائینگ روم میں پھر اس آنٹی کے ساتھ جا بیٹھی .. ایک بار پھر امی کی آنکھوں کا اشارہ موصول ہوا جسے میں نے ایک بار پھر اگنور کیا .. اور پھر چائے ی کے تھوڑی دیر بعد آنٹی چلی گئیں ... امی ان کو گیٹ تک چھوڑنے کے بعد واپس آئیں تو امی نے مجھے آواز دی اور پھر امی کے تھپڑ ..ایک کے بعد ایک ..ٹھاہ .. ٹھاہ .. امی ساتھ ساتھ بول رہی تھیں اب بیٹھو گی بڑوں میں
میرے ڈیڈی ہم سے بے
انتہا پیار کرتے تھے ... اور بقول امی کے وہ ہمیں بگاڑ رہے تھے اس لیئے جلاد کا
شعبہ امی نے سنبھالا ہوا تھا
لبنی
No comments:
Post a Comment