Wednesday, May 27, 2015

علی بابا چالیس چور ۔۔۔۔قسط دوم /اختتام


smile emoticon 

اب آگے یہ ھو بچو کہ ڈاکو جب واپس آے تو علی بابا کے بھائی کی لاش کو غایب پایا ۔۔۔وہ سمجھ گے کہ اس آدمی کے علاوہ بھی کوی اور ھے جو ان کے غار کا راز جانتا ھے ۔۔۔۔۔۔ڈاکوں کے سردار نے ایک ڈاکو کی ذمیداری لگا دی کہ شہر جاے اور خاموشی سے پتہ کرے کہ کسی گردن کٹی لاش کو تو نہیں دفنایا گیا حال ھی میں ۔۔۔۔۔۔وہ ڈاکو چپکے سے شہر گیا اور معلومات حاصل کی تو اسے ایسی کسی موت اور مردے کی اطلاع نہیں ملی ۔اس نے واپس آ کر سردار کو بتایا کہ ایسی کسی موت کی اطلاع نہیں ھے ۔۔۔ڈاکووں کا سردار کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا یقینا اسے گردن سی کر دفنایا گیا جاو شہر کے سارے درزیوں کو سونے چاندی کا لالچ دے کر پوچھو کہ کس نے ایسا کیا ھے ۔۔۔۔۔۔ ڈاکو پھر شہر پہنچا ۔۔۔۔۔اور شہر کے سارے درزیوں سے ملا اور پوچھا تو سب نے انکار کیا لیکن ایک بولا اگر تم مجھے پیسے دو تو میں بتا سکتا ھوں کہ یہ کام کس نے مجھ سے کروایا ھے ۔۔۔۔۔ ڈاکو نے کہا سونے کی پرواہ نہ کرو بس مجھے وہاں لے چلو ۔۔۔درزی نے کہا کہ میری آنکھیں باندھ دو کپڑے سے کیوں کہ میں بند آنکھوں کے ساتھ اس گھر میں گیا تھا لیکن میں ھر قدم کو گنا تھا کہ کتنے قدم کے بعد میں کس طرف مڑا تھا ۔۔۔ڈاکو نے ایسا ھی کیا ۔۔۔۔درزی نے اسے سیدھے علی بابا کے بھائی کے گھر پہنچا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ 
ڈاکو نے اسے سونا چاندی دے کر رخصت کر دیا اور دروازے کے اوپر لال رنگ کا کراس ڈال دیا تا کہ نشانی ھو جاے ۔۔۔۔۔۔اگلے دن علی بابا کی نوکرانی مرجانہ کسی کام سے وہاں آی تو اس نے وہ نشان دیکھا اور چونک گی وہ سمجھ گی کہ ڈاکو یہاں تک پہنچ گے ھیں ۔اس نے فورا سارے آس پاس کے گھروں میں کے دروازوں پر بھی ویسا ھی لال کراس کا نشان ڈال دیا ۔۔اور گھر جا کر علی بابا کو ساری کہانی سنای علی بابا  پریشان ھو گیا اور اس نے کہا اب کیا کریں مرجانہ یہ جلد یہاں پہنچ جایں گے ۔۔۔۔مرجانہ نے کہا آپ فکر نہ کریں میں سنبھال لوں گی ۔۔۔۔۔۔۔کچھ دن بعد ڈاکو پوری تیاری کے ساتھ وہاں پہنچے تا کہ اس بندے کو پکڑ کر مار دیں جو ان کے راز سے واقف ھو گیا تھا لیکن یہ دیکھ کر حیران پریشان رہ گے کہ سارے گھروں کے اوپر ویسا ھی نشان تھا وہ واپس چلے گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کریں ۔۔۔۔۔۔وہ شخص ھوشیار ھو گیا ھے کہیں ھمارا راز کوتوال اور بادشاہ تک نہ پہنچا دے ۔۔۔ھمیں ھوشیاری سے کام لینا ھو گا ۔۔۔۔۔اب کی دفعہ پھر درزی کو پکڑو اور اسے پھر وہاں لے کر جاو اور وہیں ڈیرا ڈال لو وہاں سے ھلنا نہیں فیقر بن کر بیٹھ جاو ۔۔۔۔۔۔۔ادھر مرجانہ درزی کے پاس گی اور اس سے سارہ ماجرہ پوچھا ۔۔ درزی نے بتا دیا اور کہا میں کیا کرتا اگر میں نہ بتاتا وہ مجھے جان سے مار ددیتے ۔۔۔مرجانہ علی بابا کے پاس گی اور کہا کہ اب کی دفعہ وہ نیا پلان بنا کر آیں گے ۔۔۔۔۔۔۔آپ مجھے کچھ دن کے لیے اپنے بھائی کے گھر پر چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔۔۔علی بابا نے بھابی سے بات کر کے اسے ان کے ھاں چھوڑ دیا بھابھی بھی ڈر گئی تھی اس نے بخوشی مرجانہ کو اپنے گھر رکھ لیا ۔
کچھ دن گزرے ڈاکوں کا سردار چالیس ڈاکوں کے ساتھ علی بابا کے بھای کے گھر پر پہنچا جو کہ اب بہت سارے محلوں کے درمیان بنا ھوا تھا کیونکہ اب وہ امیر تھے ۔اس نے دروازہ کھٹکھٹایا مرجانہ نے دروازہ کھولا تو ڈاکوون کے سردار نے کہا میں علی بابا کے بھائی کا دوست ھوں تاجر ھوں دوسرے شہر سے مال لے کر آیا ھوں بھابھی سے کہیں کہ میں کچھ دن رکوں گا یہاں ۔۔اس کے ساتھ چالیس گھڑے تھے اور کچھ آدمی تھے ۔ گھڑوں کے اندر چالیس چور چھپے ھوے تھے تا کہ رات کو ان سب کو قتل کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔مرجانہ نے اسے مہمان خانے میں ٹہرا دیا ۔۔۔۔۔سردار نے انہیں بتایا کہ ان گھڑوں میں تیل ھے جو وہ یہاں بیچے گا ۔۔۔۔۔۔۔بھابھی نے مرجانہ سے کہا کہ رات کے کھانے کی تیاری کرو ۔۔۔۔۔کھانا پک رہا تھا کہ اچانک کھانا پکانے کا تیل ختم ھو گیا مرجانہ نے سوچا ابھی میں ایک گھڑے سے تیل لے لیتی ھوں بعد میں سردار کو پیسے دے دوں گی یہ سوچ کر اس نے ایک گھڑے کا منہ کھولا اور اندر جھانکا تو اندر ایک آدمی کو دیکھ کر حیران رہ گی ۔۔اس نے جلدی سے گھڑا واپس بند کر دیا ۔وہ سمجھ گی تھی کہ یہ ڈاکو ھیں اس نے آھستگی سے سارے گھڑے کھولے تو سواے ایک کے سب میں ڈاکو تھے ۔۔اس نے ایک گھڑے سے تیل لیا اور ایک بہت بڑے کڑھاو میں تیل پکانا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تیل خوب کھول گیا تو اس نے ایک ایک کر کے سارے گھڑوں میں کھولتا تیل ڈال دیا ۔۔۔جس سے سارے ڈاکو مر گے ۔۔۔اب وہ بھاگ کر کوتوال کے پاس گئی اور انہیں سارا ماجرہ کہہ سنایا ۔۔۔کوتوال اپنے آدمی لے کر پہنچا اور ڈاکووں کے سردار کو گرفتار کر لیا اس کے دو تین آدمی کوتوال کے آدمیوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور گرفتار کر لیے گئے ۔۔۔بادشاہ کب سے اس ڈاکو کو گرفتار کرنے کے چکر میں تھا مرجانہ کی عقل مندی کی وجہہ سے سب پکڑے گئے 
بادشاہ نے مرجانہ کو بہت انعام و اکرام دیا ۔۔۔۔۔علی بابا اتنا خوش ھوا کہ اس نے اپنے بیٹے کی شادی مرجانہ سے کر دی ۔وہ سب ھنسی خوشی آزادی کے ساتھ رہنے لگے 
چلو بچو کہانی ختم پیسا ہضم smile emoticon


بشکریہ : فریال عثمان خان 

No comments:

Post a Comment