دونوں ہنسی خوشی ایک راجہ کے کھیت قریب واقع ایک درخت پر رہا کرتے تھے۔ پودنا تو ادھر اُدھر سے دانہ دنکہ چگ لیتا تھا جبکہ پودنی کچھ نفاست پسند تھی ، اسی وجہ سے پودنی دانہ لینے راجہ کے کھیت میں جایا کرتی۔ اس عادت پر پودنے کو بڑا غصہ آتا اور وہ پودنی کو ڈانٹا کرتا کہ تُو راجہ کہ کھیت میں دانہ نہ چگا کر، اس بات پر پودنی نے پودنے کو کہا کہ کچھ بھی ہو میں تو راجہ کے کھیت سے ہی دانہ کھاؤں گی۔
ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ اپنے کھیتوں کا معائنہ کر نے آیا تو اس کے درباریوں نے راجہ کو شکایت لگائی کہ دن بدن کھیت کی فصل خراب ہورہی ہے۔ راجہ نے وجہ پوچھی تو درباریوں نے کہا کہ ایک پودنی ہے جو اس کھیت میں دانہ چگنے کے لئے آتی ہے اور اسی لئے فصل خراب ہورہی ہے۔ اس پر راجہ نے غصہ سے کہا کہ اس کمبخت پودنی کو پکڑ کر پینجرے میں بند کرو اور میرے محل میں رکھ دو۔
پودنی روزانہ کی طرح صبح دانہ چگنے اپنے گھونسلے سے نکلی ، اور راجہ کے کھیت میں جاکر دانہ چگنے لگی ، یہ دیکھ کر راجہ کےملازموں نے پودنی کو پکڑا اور پینجرے میں بند کرکے اس کو راجہ کی خواب گاہ سے منسلک بالکنی میں جاکر لٹکا دیا۔
صبح سے دوپہر ، دوپہر سے شام اور شام سے رات ہوگئی لیکن پودنی کا کچھ پتہ نہ تھا اور پودنا انتظار میں کبھی ایک ڈال تو کبھی دوسری ڈال پر چکر لگاتا کہ شاید اب پودنی آجائے، لیکن پودنی جب رات گئے تک واپس نہیں آئی تو پودنے نے سوچا کہ ہو نہ ہو پودنی ضرور دانہ چگنے راجہ کے کھیت میں گئی ہوگی اور اسے راجہ کے آدمیوں نے پکڑ لیا ہوگا۔ جب صبح ہوئی تو پودنے نے یہ سوچ کر فیصلہ کیا کہ یہاں ٹہرنے کاکوئی فائدہ نہیں بلکہ مجھے راجہ سے اپنی پودنی کو چھڑوانہ ہوگا۔ اب پودنے کے سامنے ایک لمبا سفر تھا جو وہ اپنے چھوٹے ہونے کی وجہ سے نہیں کرسکتا تھا۔ اس وجہ سے اس نے کچھ سرکنڈے اکھٹے کئے اور ایک گاڑی بنائی اور اس میں دو مینڈک جوت کر سفر کے لئے تیار ی پکڑی۔
ابھی پودنا راستے میں تھا کہ اسے ایک بلی نظر آئی ، بلی نے اسے دیکھ کر پوچھا کہ “میاں پودنے کہا چلے”، اس پر پودنے نے غصے سے جواب دیا،
سرکنڈے کی گاڑی میں دو مینڈک جوتے جائیں
راجہ مارے پودنی ، ہم لڑنے مرنے جائیں۔
یہ سن کر بلی کو بڑا غصہ آیا اور وہ کہنے لگی کہ میاں پودنے مجھے بھی ساتھ لے چلو ۔ اس بات پر پودنے میاں بہت خوش ہوئے اور جھٹ سے کہا کہ” گھس گھس میرے کان میں گھس”، اور بلی میاؤوں میاؤوں کرتی پودنے کے کا ن میں جاکر بیٹھ گئی، اور پودنے میاں ، پُدم پُدم بھئی پُدم پُدم کہتے ہوئے راستہ طے کرنے لگے۔
جب پودنے میاں کچھ اور آگے چلے تو انھیں چیونٹیوں کی ایک قطار نظر آئی ، اس قطار میں سےایک چیونٹی نے پودنے سے پوچھا کہ پودنے میاں کہاں چلے؟ اس پر پودنے نے غصہ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ۔
سرکنڈے کی گاڑی میں دو مینڈک جوتے جائیں
راجہ مارے پودنی ، ہم لڑنے مرنے جائیں
چیوںٹیوں نے جب یہ سنا کہ بیچاری پودنی کو راجہ نے اپنے محل میں قید کر رکھا ہے تو انھیں بڑا غصہ آیا، اور انھوں نے پودنے سے کہا کہ “میاں پودنے ہمیں بھی ساتھ لے چلو” ۔ پودنے میاں یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا”پُھس پُھس میرے کان میں گُھس”۔
یہ سننا تھا کہ کہ ساری چیونٹیاں سیں سیں کرتی پودنے کے کان میں جاکر بیٹھ گئیں، اور پودنے نے اپنا سفر پھر سے شروع کیا۔
اب جو پودنے میاں کچھ آگے چلے تو ایک دریا راستے میں آگیا، پودنے کو دیکھ کر دریانے پودنے سے پوچھا ،”بھائی پودنے کہاں جارہے ہو”۔ یہ سن کر پودنے نے غصہ سے جواب دیا۔
سرکنڈے کی گاڑی میں دو مینڈک جوتے جائیں
راجہ مارے پودنی ، ہم لڑنے مرنے جائیں
یہ سن کر دریا نے غصہ میں پودنے سے کہا کہ” میاں پودنے مجھے بھی ساتھ لے چلو”۔ یہ سن کر پودنے میاں بہت خوش ہوئے اور کہا،”گُھس گُھس میرے کان میں گُھس” یہ سن کر دریا شڑڑ شڑڑ کرتا پودنے میاں کے کان میں گُھس کر بیٹھ گیا، اور پودنے میاں “پُدم پُدم بھئی پُدم پُدم” کہتے ہوئے باقی کا سفر طے کرنے لگے۔
چلتے چلتے پودنے میاں راجہ کے محل کے دروازے پر پہنچے تو پودنے کو دیکھ کر راجہ کے محل کے چوکیدار ہنسنے لگے۔ یہ دیکھ کر پودنے کو غصہ آیا اور محل کے چوکیدار سے کہنے لگا،” جاؤ اور اپنے راجہ سے کہہ دو کہ میری پودنی کو رہا کردے ورنہ میں اسے تباہ کردوں گا، یہ سن کر توچوکیدار اور بھی زور زور سے ہنسنے لگے اور پودنے کا مذاق اُڑانے لگے، پھر اپنے راجہ کے پاس جاکر انھوں نے یہ صورتحال بتلائی، یہ سن کر راجہ کو غصہ آیا کہ اتنا سا پودنا اور مجھ جیسے راجہ سے لڑنے آیا ہے، اس چیختے ہوئے کہا کہ جاؤ اور اس
اس حقیر پودنے کوہمارے مرغی خانے میں بند کردو، مرغیاں اس کمبخت پودنے کو ٹھونگیں مار مار کر ہلاک کردیں گی۔
یہ سن کر راجہ کے ملازموں نے پودنے کو مرغی خانے میں قید کردیا۔
جب رات ہوئی تو پودنے نے آواز لگائی،” اے مانو بلی! لے کر اب اللہ کا نام ، شروع کرو تم اپنا کام” ، یہ سن کر بلی میاؤوں میاؤوں کرتی پودنے کے کان سے نکل گئی، پہلے تو بلی نے خوب دعوت اُڑائی اور پھر جو مرغیاں باقی بچیں انھیں پنجے مار مار کر ادھ موا کردیا، پھر پہلے کی طرح مانو بلی پودنے کے کان میں جاکر بیٹھ گئی، اور پودنے میاں سکون سے ایک طرف لیٹ کر سوگئے۔
صبح جب راجہ کے ملازم پودنے کی لاش لینے آئے تو یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے کہ ساری مرغیاں مری ہوئی ہیں، وہ بھاگے بھاگے راجہ کے پاس پہنچے اور راجہ کو صورتحال بتلائی۔ یہ سن کر راجہ غصے سے آگ بگولا بن گیا اور چیختے ہوئے بولا کہ آج اسے ہاتھی خانے میں بند کردو، صبح اس کو کچلا ہوا دیکھ کر لطف آئے گا۔
ملازموں نے پودنے کو پکڑ کر ہاتھی خانے میں بند کردیا، جب رات ہوئی تو پودنے میاں اٹھے اور کہنے لگے”اری چیونٹیوں! لے کر اب اللہ کا نام ، شروع کرو تم اپنا کام”۔ یہ سن کر چیونٹیاں پودنے کے کان سے نکلیں اور ہاتھیوں کو سونڈ میں گُھس کر خوب کاٹنا شروع کیا۔ سارے ہاتھی تکلیف سے مر گئے۔ یہ دیکھ کر پودنے میاں ایک کونے میں جاکر سوگئے۔
صبح جب راجہ کے ملازم پودنے کی کچلی ہوئی لاش لینے آئے تو یہ دیکھ کر خوفزدہ ہوگئے کہ سارے ہاتھی مرے پڑے ہیں اور پودنا ایک کو میں سورہا ہے، وہ بھاگے بھاگے راجہ کے پاس پہنچے اور یہ سارا قصہ سنایا۔ راجہ یہ سن کر بہت غصے میں آگیا اور کہنے لگا کہ اس حقیر پودنے کو آج میری خواب گاہ میں بند کردو، میں صبح خود اس کی گردن کاٹ کر ہلاک کردوں گا۔
رات ہوئی تو راجہ اپنے تمام کاموں سے فارغ ہو کر اپنی خواب گا ہ میں آیا اور پودنے کو دیکھ دیکھ کر اس نے اپنی تلوار خوب تیز کی اور اسے اپنی تکیے کے نیچے رکھ کر سو گیا۔
رات گہری ہوئی تو پودنے میاں نے سُرسُرا کر کہا۔” اے دریا بھائی! لے کر اب اللہ کا نام ، شروع کرو تم اپنا کام”، یہ سن کر دریا شڑڑ شڑڑ کرتا پودنے کے کان سے نکلا اور سارے محل میں پانی بھر نے لگا، راجہ کے سارے ملازم خوفزدہ ہوکر چیخنے لگے ، دریا اور ملازموں کا شور سن کر راجہ کی آنکھ کھل گئی، لیکن دیر ہوچکی تھی۔ پانی مسہری کے اوپر چڑھ چکا تھا اور آہستہ آہستہ اتنا پانی ہوا کہ راجہ اس میں ڈوبنے لگا، اور چختے ہوئے مدد کے لئے پکارنے لگا، یہ دیکھ کر پودنا ہنستے ہوئے کہنے لگا کہ یہ ہوتا ہے ظلم کا انجام۔ راجہ خوفزدہ ہوکر کہنے لگا کہ پودنے میاں مجھے معاف کردو میں اب کسی کو تنگ نہیں کروں گا اور تمھاری پودنی کو چھوڑ دوں گا، پودنے نے خوب تسلی کے بعد دریا کو کان میں جانے کا کہا اور سارا دریا پودنے کے کان میں چلا گیا۔
صبح ہوئی تو راجہ نے ملازموں کو حکم دیا کہ پودنی کو رہا کرو اور عزت احترام سے اسے اور پودنے میاں کو ان کے گھونسلے میں چھوڑ آؤ، اور آئندہ کبھی بھی انھیں کھیت میں دانہ چگنے پر کچھ نہ کہا جائے۔
اور یوں یہ سارا قصہ تمام ہوا۔
بشکریہ: سبین کومل
No comments:
Post a Comment