Monday, May 25, 2015

چین کا طوطا: نا معلوم


ایک بولنے والا طوطا تھا وہ چین میں کسی کی قید میں تھا ۔ اس کا مالک جب چین سے دوسرے ملک جانے لگا تو سب سے پوچھا کہ کسی کو کوئی پیغام بھجوانا ہو تو بتا دے۔آخر میں اس نے اپنے طوطے سے بھی پوچھا کہ کچھ پیغام بھجوانا چاہتے ہو۔ پردیس میں طوطوں کے لئے۔ تو اس کے طوطے نے کہا کہ طوطوں سے کہنا کہ ۔ تم توآزاد ہومگر تمہاری طرح کا ایک طوطا کسی کی قید میں برسوں سے ہے ۔ وہ شخص چلا گیا اس نے سب کے پیغامات پہنچا دیئے آخرمیں اس کو اپنے طوطے کا پیغام یاد آیا ۔ اس نے دیکھا کہ طوطوں کا ایک غول ہے جو نزدیک ہی درخت موجود ہے ۔اس نے اُن کو مخاطب کیا اور کہا کہ میرے طوطے نے یہ پیغام دیا ہے کہ تم سب تو آزاد ہو اور تمہاری طرح کا ایک طوطا کسی کی قید میں برسوں سے ہے۔ یہ سننا تھا کہ تمام طوطےجھٹ سے زمین پر آ گرے اور مر گئے۔ وہ بڑاپریشان ہو کر آگے کی طرف چل دیا لیکن کچھ نا سمجھ سکا واپس آیا اپنے طوطے کو بتایا کہ عجیب بات ہوئی میں نے تمہارا پیغام دیا اور طوطے جھٹ سے گرے اور مر گئے یہ سنناتھا کہ اس کا پیارا بولنے والا طوطا بھی پنجرے میں جھٹ سے گرا اور مر گیا اس کے آنسو نکل آئے بڑا پریشان ہوا ۔ کہ یہ کیا ہے ۔ اس کو پنجرے سے نکالا اور زمین پر رکھا تو فورا طوطا اڑ کر دیوار پر جا بیٹھا وہ بڑاپریشان ہوا اور پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے طوطا کہنے لگا کہ تم اتنے بیوقوف ہو کہ اس طوطے کا پیغام نا سمجھ سکے اس طوطے کا پیغام یہی تھا کہ آزادی چاہتے تو اسی طرح آزادی ملے گی اور پھر وہ طوطا ہواؤں میں کہیں گم ہوگیا۔ 

بشکریہ: غزالہ پرویز

No comments:

Post a Comment